کاروار:5؍نومبر (ایس او نیوز) برادران وطن کے تہوار دیوالی کے موقع پر ضلع پولس سپرنٹنڈنٹ ونایک پاٹل 5دن چھٹی پر چلے جانے سے دیوالی کے دوران اسپیٹ (تاش کے پتوں سے کھیلا جانے والا ایک قسم کا جوا ) کھیل کی سرگرمیوں پر قدغن لگانا مشکل بتایا جارہاہے۔
ایماندار اور نظم وضبط میں سخت آفیسر کے طورپر مشہور ضلع ایس پی ونایک پاٹل کچھ دن پہلے محکمہ کی طرف سے جرمنی کا دورہ کرکے لوٹے ہیں۔ اب یہ خبر آرہی ہے کہ وہ پانچ چھٹی پر اپنے گاؤں جارہے ہیں۔ عام طورپر عوام میں افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں کہ ایس پی کی غیر موجودگی میں ضلعی پولس بہت ڈھیل برتتی ہے اور کچھ ایماندار پولس عملےکا خیال ہے کہ جب نگرانی کے لئے اعلیٰ افسر نہیں ہوتے ہیں تو فرائض کو انجام دینا اور بھی مشکل ہوجاتاہے۔
پولس افسران نے بتایا کہ بعض مقامات سے پولس کے خلاف ہی شکایات موصول ہونے اور محکمہ کے اندرونی حالات کے پیش نظر خود ایس پی صاحب نے کئی مرتبہ محکمہ جاتی میٹنگوں میں افسران کو اپنے رویہ بدلنے کے لئے کہہ چکے ہیں۔کئی مرتبہ جوے کے اڈوں اور ریت سپلائی کے چند معاملات میں پولس اپنا ہاتھ آگے بڑھانے کے نتیجے میں پولس نظام کے تعلق سے عوام نے بیزارگی کااظہار کیا ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر ایس پی نے سخت تاکید کرتےہوئے سبھی غیر قانونی سرگرمیوں کو کلی طورپر ختم کرنےکی کوشش کی بھی تو کچھ افسران تعاون نہیں کرنے کی بات بھی ہے۔
دیوالی کے دوران ہلیال، ڈانڈیلی ، یلاپور، منڈگوڈ، کروتی ، سرسی سمیت ساحل پر جوئے کا کھیل زیادہ ہونےکا خدشہ ہے۔ جس پر روک لگانا پولس نظام کے لئے ایک بڑا سوال ہے۔ انہی موقعوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاں تہاں پولس اپنی جیب بھرنے کی اطلاعات بھی ہیں۔ ایس پی صاحب ہی چھٹی پرہیں تو پولس دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے خوشی کو دوبالا کرنے اور پٹاخوں کی آواز بہت زور ہونےکی بات کہی جارہی ہے۔
کارگزار افسران کی چندی : ضلع کے کچھ مقامات پر پولس افسران کے عہدے خالی ہیں وہاں کارگزار افسران نگراں کار بنے ہوئے ہیں۔ دیوالی کےخوشی کے موقع پر مزہ و لطف اٹھانے کےلئے جوا کھیلنے والے کچھ زیادہ ہی ہوتے ہیں، اس پر باقاعدہ روکنا مشکل تو ہے مگر ایس پی کے خوف سے ماتحت افسران چھاپہ ماری کیا کرتے تھے ۔ اب جب کہ خود ایس پی صاحب ہی نہیں ہیں تو آوارہ گردوں کے لئے خوشی ہی خوشی تو کچھ پولس افسران کے لئے چندی ہی چندی ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔
ڈانڈیلی میں جوے کے اڈوں پر کوئی روک ٹوک نہیں : ڈانڈیلی میں دیوالی تہوار کے دوران ہرسال کی طرح امسال بھی شہر کے چند جگہوں پر کھلم کھلا جوے کے اڈے چلنے کی بات کہی جارہی ہے۔ تہوار وں کے موقع پر سبھی کو ساتھ رکھتے ہوئے غیر قانونی طورپر جوے کے اڈے چلتے رہتے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے یہ عام بات ہوگئی ہے۔ حالات کے پیش نظر عوام پولس محکمہ پر انگلی اٹھانے لگے تو ایس پی صاحب کے حکم پر پولس نے چھاپہ ماری کرتے ہوئے کیس درج کرلئے ہیں۔